خدا اور انسانیت کی خدمت میں سرگرم ایک عظیم عالمِ دین

ہر دور میں علماء پیدا ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے صرف چند ایسی شخصیات ہوتی ہیں جو اپنی ذات میں ایک ادارہ بن جاتی ہیں۔ یہ وہ نادر لوگ ہیں جن کی زندگی صرف علم حاصل کرنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ علم کو عام کرتے ہیں، اسے زندگی میں نافذ کرتے ہیں اور اسے انسانیت کی خدمت کا مؤثر ذریعہ بنا دیتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ایسی ہی ممتاز اور غیر معمولی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
وہ عصرِ حاضر کے جلیل القدر مسلم علماء میں سے ایک ہیں۔ ایک عظیم مصنف، دور اندیش مفکر، مصلح، ماہرِ تعلیم، روحانی راہنما اور اسلام کے بے لوث خادم کے طور پر ان کی خدمات پاکستان کی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اپنی علمی کاوشوں، تعلیمی اداروں، فلاحی منصوبوں اور عالمی دعوتی سرگرمیوں کے ذریعے انہوں نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی فکری، روحانی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری 1951ء میں ضلع جھنگ، پاکستان کے ایک ایسے علمی و روحانی خانوادے میں پیدا ہوئے جو دین، علم اور تصوف کی روایات کے حوالے سے ممتاز مقام رکھتا تھا۔ بچپن ہی سے ان کی غیر معمولی ذہانت اور علمی استعداد نمایاں تھی۔ انہوں نے روایتی اسلامی علوم اور جدید عصری تعلیم دونوں میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ قرآنِ مجید، حدیث، فقہ، عقائد اور تصوف جیسے کلاسیکی علوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ انہوں نے جدید قانون اور سماجی علوم میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں وہ لاء کالج پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر مقرر ہوئے، جس سے ان کی اس منفرد صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اسلامی علمی روایت اور جدید فکری تقاضوں کے درمیان ایک مضبوط پل قائم کر سکتے تھے۔
ایک دور اندیش مفکر اور مسائل کا عملی حل پیش کرنے والے عالم
عظیم علماء کو عام علماء سے ممتاز کرنے والی چیز صرف علم کی وسعت نہیں ہوتی بلکہ اپنے زمانے کے چیلنجز کو سمجھنے اور ان کے مؤثر حل پیش کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ آج کی مسلم دنیا جہالت، فرقہ واریت، سماجی انتشار، غربت، اسلام مخالف پروپیگنڈے اور دین و دنیا کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے جیسے بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔ بہت سے لوگ ان مسائل کا شکوہ کرتے ہیں، لیکن چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو ان کے عملی حل کے لیے میدان میں اترتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری انہی افراد میں شامل ہیں جنہوں نے صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کی بلکہ ان کے حل کے لیے عملی جدوجہد بھی کی۔
1980ء میں انہوں نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کی بنیاد رکھی، جو آج دنیا کے نوّے سے زائد ممالک میں سرگرم عمل ایک عالمی تحریک بن چکی ہے۔ مسلمانوں کی فکری اور روحانی تجدید کے خواب سے شروع ہونے والی یہ تحریک آج تعلیمی اداروں، فلاحی منصوبوں، تحقیقی مراکز، بین المذاہب مکالمے اور سماجی خدمت کے وسیع نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کی قیادت میں قائم ہونے والے اسکولوں، کالجوں، جامعات، رفاہی اداروں اور انسانی خدمت کے منصوبوں نے لاکھوں افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔
ان کی شخصیت کا سب سے متاثر کن پہلو صرف اداروں کی تعداد یا وسعت نہیں بلکہ وہ ہمہ گیر وژن ہے جو ان کے پسِ پشت کارفرما ہے۔ انہوں نے بہت پہلے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ مسلم معاشروں کے مسائل محض خطابات، تقاریر یا وعظ و نصیحت سے حل نہیں ہوں گے۔ قوموں کو ایسے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے جو تعلیم فراہم کریں، نوجوانوں کی کردار سازی کریں، ضرورت مندوں کی مدد کریں، علماء تیار کریں اور جدید دنیا کے ساتھ اعتماد اور حکمت کے ساتھ مکالمہ کر سکیں۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہوں نے افکار کو اداروں میں اور خوابوں کو عملی منصوبوں میں ڈھال دیا۔
تعلیم کے احیاء اور فروغ میں نمایاں کردار
ڈاکٹر طاہرالقادری کی سب سے اہم خدمات میں تعلیم کا فروغ سرفہرست ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مسلم معاشروں کے بہت سے مسائل کی جڑ جہالت اور علمی پسماندگی ہے۔ چنانچہ انہوں نے محض تنقید پر اکتفا نہیں کیا بلکہ کئی دہائیوں تک ایسے تعلیمی اداروں کے قیام میں مصروف رہے جو نئی نسلوں کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت کا فریضہ انجام دے سکیں۔
منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے انہوں نے اسکولوں، کالجوں، تحقیقی مراکز اور یونیورسٹیوں کا ایک وسیع نظام قائم کیا، جس نے ہزاروں نوجوانوں کو دینی اور عصری تعلیم کے متوازن مواقع فراہم کیے۔ ان کی سینکڑوں کتب، ہزاروں خطابات اور تحقیقی کاموں نے کلاسیکی اسلامی علوم کو عام مسلمانوں کے لیے قابلِ فہم اور قابلِ رسائی بنایا۔ یوں انہوں نے ایسی نسل کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا جو اپنی دینی شناخت پر فخر کرتی ہے اور جدید دنیا کے تقاضوں سے بھی پوری طرح آگاہ ہے۔
خدمتِ انسانیت اور فلاحی سرگرمیاں
ان کی دوسری بڑی خدمت انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی غیر معمولی وابستگی ہے۔ انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی لیتے ہوئے منہاج القرآن کو صرف ایک تعلیمی یا دعوتی تحریک نہیں رہنے دیا بلکہ اسے خدمتِ خلق کا ایک مؤثر عالمی پلیٹ فارم بنا دیا۔
اس تنظیم کے تحت فلاحی منصوبے، طبی سہولیات، یتیم بچوں کی کفالت، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیاں، غریب خاندانوں کی معاونت اور سماجی بہبود کے متعدد پروگرام جاری ہیں۔ یہ تمام خدمات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ اسلام صرف عقائد اور عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، ہمدردی اور معاشرتی ذمہ داری کا عملی پیغام بھی ہے۔
اختتامیہ
پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی شخصیت علم، عمل، دعوت، خدمت اور روحانیت کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے اسلام کو محض چند رسوم و روایات یا نظری مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے فکری بیداری، اخلاقی اصلاح، سماجی خدمت اور انسانی ترقی کی ایک ہمہ گیر قوت کے طور پر پیش کیا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ جب علم، اخلاص اور خدمتِ خلق یکجا ہو جائیں تو وہ افراد ہی نہیں بلکہ پورے معاشروں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
ان کی علمی، تعلیمی، فلاحی اور روحانی خدمات کا سفر آج بھی جاری ہے۔ مستقبل کے مؤرخین غالباً انہیں ان علماء اور مصلحین میں شمار کریں گے جنہوں نے نہ صرف اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی بلکہ اس کی حقیقی روح کو معاشرے میں زندہ کرنے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔
اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے علمی و روحانی فیوض کو جاری رکھے، ان کے قائم کردہ اداروں کو مزید ترقی عطا فرمائے اور آنے والی نسلوں کو بھی ان کے علم، حکمت اور خدمت سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ان کی زندگی کا پیغام یہ ہے کہ دین محض عقیدہ نہیں بلکہ ایک زندہ قوت ہے جو انسان کی فکر، کردار، معاشرے اور مستقبل کو سنوار سکتی ہے۔ یہی وہ ورثہ ہے جو پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری آنے والی کئی نسلوں کے لیے ورثہ کی صورت چھوڑ رہے ہیں۔